• سیاست - متفرقات

    ہندوتوا پولیس

    ہندوتوا پولیس مجھے کل گاؤں جانا ہے اور حالات کا تقاضا ہے کہ سفر میں موبائل ہونا چاہیے؛ چھوٹے بھائی کا ایک موبائل خراب پڑا تھا، سوچا فی الحال اسے ہی ٹھیک کرا لوں اور اسی سے کام چلا ؤں؛چنانچہ دو روز قبل موبائل درست کرانے کے لئے دہلی گیٹ دریا گنج میں ایک شناسا موبائل مستری کے پاس گیا؛ دیکھا مرجھایا ہوا ہے اور پریشان سا منہ لئے بیٹھا ہے، پہلے کی طرح نہ گرمجوشی ہے اور بشاشت؛ دریافت کرنے پر جو بات بتلائ،وہ ہندوتوا پولیس کا مکروہ چہرہ، ہندوستانی مسلمانوں کی بےبسی اور ہندوتوا دہشت گردی کی انتہاء…

  • علم و عمل

    زندگی موبائل کے بغیر

    زندگی موبائل کے بغیر امیر معاویہ قاسمی دربھنگوی✍️ حادثے مکافات عمل یا آزمائش  حادثے یا تو مکافات عمل ہوتے ہیں یا آزمائش، لیکن بہر صورت مومن کے لیے رحمت ہوتے ہیں؛ میرے ساتھ بھی پانچ روز قبل ایک حادثہ پیش آیا، میرے برادر نسبتی دہلی آئے ہوئے تھے اور انہیں مینا بازار جامع مسجد پر کچھ خریداری کرنی تھی؛ ہفتہ کا دن تھا، دوپہر کے چار بج رہے تھے، ہم اہل و عیال مینا بازار گئے، خریداری کرنے لگے، ایک دوکان پرسامان کی قیمت کی ادائیگی کے لیے موبائل نکالنا چاہا اور جیب میں ہاتھ ڈالا تو موبائل نہیں تھا،…

  • تنقید و تجزیہ - علم و عمل

    الیکٹرول بانڈز اور سپریم کورٹ کا فیصلہ

    الیکٹرول بانڈز اور سپریم کورٹ کا فیصلہ امیر معاویہ قاسمی دربھنگوی الیکٹرول بانڈز  بہت سے احباب نے دریافت کیا کہ یہ الیکٹرول بانڈز کیا ہے؟ اور اس کے خلاف سپریم کورٹ کا کیا فیصلہ آیا ہے؟ تو آئیے الیکٹرول بانڈ اور سپریم کورٹ کے فیصلہ  کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں؛ الیکٹرول بانڈ (انتخابی وابستگی) ایک بینکنگ مالیاتی نظام ہے، جو سیاسی جماعتوں کو فنڈ فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے؛ آپ اسے آسان لفظوں میں یوں سمجھیں کہ سیاسی جماعتیں ، کارپوریٹ گھرانے سے موٹی رقم انتخاب کے وقت لیتی ہیں؛پہلے ڈائریکٹ ان سے لے لیا کرتی…

  • ادب و تاریخ - انشاء

    شر میں خیر

    شر میں   خیر  امیر معاویہ قاسمی دربھنگوی مسلم حقیقت یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ دنیا مین شر ہی شر نہیں ہے،خیر بھی ہے؛اور بسا اوقات شر میں بھی خیر ہوتا ہے، بس دیکھنے کا نظریہ اپنا اپنا ہے؛ مثبت نظریہ کے حامل لوگ شر میں خیر ، مصیبت میں راحت اور تاریکی میں روشنی تلاش لیتے ہیں؛ اور منفی نقطہ نظر کے حاملین کا معاملہ برعکس ہوتا ہے، وہ خوشی میں غمی اور مٹھاس میں کڑواہٹ گھولنے کا کام کرتے ہیں؛ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے کہ “بہت ممکن ہے کہ تمہیں کوئی چیز نا پسند ہو اور…

  • علم و عمل

    تھوک چاٹنا یعنی ۔۔۔

    تھوک چاٹنا یعنی ۔۔۔ امیر معاویہ قاسمی دربھنگوی :تھوک چاٹنا مکتب میں جب ہم لوگ پڑھتے تھے تو ہماری غلطیوں پر ہمیں مختلف سزائیں دی جاتی تھیں؛ مثلاً کان مڑوڑنا، اوٹھک بیٹھک کرانا، مرغا بنانا، کرسی بنانا،چیونٹی کاٹا جانا اور ہاتھ پر تھوک ڈال کر چٹوانا وغیرہ، اس میں بھی کبھی ایسا ہوتا تھا کہ خود کا تھوک اپنے ہاتھ پر پھینک کر چاٹنا ہوتا تھا اور کبھی دوسرے سے تھوک ہمارے ہاتھوں پر ڈلوایا جاتا اور اسے ہمیں چاٹنا پڑتا تھا ؛ تھوک چاٹنے کی سزا سب سے سخت ہوتی تھی لیکن یہ سزا آخری درجہ کا ہوتا تھا…

  • علم و عمل

    کٹھن ہے راہ گزر، تھوڑی دور ساتھ چلو۔۔۔

    بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ کٹھن ہے راہ گزر ،تھوڑی دور ساتھ چلو۔۔۔ امیر معاویہ قاسمی دربھنگوی :ہماری قیادت گزشہ جمعرات کو گیانواپی مسجد اور دیگر مسلم مسائل کے سلسلے میں ہمارے صفِ اول کے قائدین نے میٹنگ کی، میٹنگ جمعیت علماء ہند کے مرکزی دفتر مسجد عبد النبی آئ ٹی او دہلی میں ہوئ، میٹنگ کو پورے طور پر خفیہ رکھا گیا، کیا باتیں ہوئیں؟ کیا لائحہ عمل طے کیا گیا؟ اور مستقبل میں کس طرح کے اقدامات کئے جائیں گے؟ سب خفیہ رکھا گیا؛ دوسرے روز جمعیت ہی میں پریس کانفرنس رکھا گیا، پریس کانفرنس میں ہماری قیادت نے…

  • علم و عمل

    پریس کلب آف انڈیا کا متعصبانہ رویہ

    پریس کلب آف انڈیا کا متعصبانہ رویہ امیر معاویہ قاسمی دربھنگوی :پریس کلب پریس کلب آف انڈیا کا قیام 20 دسمبر 1957ء کو عمل میں آیا، اس کا دفتر نئی دہلی کے مرکز میں واقع ہے اور یہ شہر کے اہم ثقافتی اور سماجی مراکز میں سے ایک ہے؛ ملک و بیرون ملک کے بیالیس سو زائد صحافی حضرات اس کے ممبران ہیں اور اس کے موجودہ صدر گوتم لہری صاحب ہیں؛ اس کے قیام کا مقصد ہے، آزاد صحافت کو فروغ دینا اور اس کا تحفظ، صحافتی اخلاقیات کا تحفظ، ملکی اور غیر ملکی صحافیوں کا نیٹ ورکنگ، پریس…

  • اسلامیات - تاریخ اسلام

    آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے

    بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے امیر معاویہ قاسمی دربھنگوی :مسجد اخوند  ہندوستانی مسلمانوں کے لیے آزمائش اور صبر کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے،ہر دن نئ مصیبت اور نئ آزمائش ہے، صبح ایک درد، شام ایک درد؛ گزشتہ کل صبح ہوئی تو یہ خبر ملی کہ مسجد اخوند جی مہرولی نئ دہلی پر بلڈوزر چلا دیا گیا ہے اور مکمل مسجد زمیں بوس کر دیا گیا ہے؛ اس مسجد میں بحر العلوم کے نام سے مدرسہ بھی قائم تھا، طلبہ اور اساتذہ کو پولیس نے تحویل میں لے کر…