سرکاری دفتر کے مشاہدے سے دینی اداروں کی قیادت تک | ایک فکری تجزیہ
امیر معاویہ قاسمی دربھنگوی ✍️
:سرکاری دفاتر
سرکاری دفاتر روایتی دینی اور علمی پس منظر رکھنے والوں کے لیے اپنی نوعیت میں ایک عجیب و غریب دنیا ہے؛ یہ ایسی کائنات ہے جہاں ہر روز نئے کردار، نئی کہانیاں اور انوکھے تجربات و مشاہدات سامنے آتے ہیں؛ میرا اندازہ ہے کہ یہاں انسانی نفسیات اور اجتماعی و انفرادی ذہنیت کو روبرو سمجھنے کا جو موقع کثرت سے ملتا ہے وہ باقاعدہ مطالعہ سے کم نہیں ہے، آئیے! اسی پس منظر میں حالیہ دنوں پیش آنے والا ایک واقعہ سن لیجئے۔
آفس میں بیٹھا تھا، نگاہیں لیپ ٹاپ کی اسکرین پر جمی تھیں اور ذہن فائلوں کی کھوج بین میں الجھا ہوا تھا کہ اچانک ایک کڑک دار آواز میں سلام گونجا؛ اس قدر جھناٹے دار سلام پر میں چونک پڑا، اس لیے کہ ہمارا اردو زبان سیل ضلع کے مرکزی اسٹیبلشمنٹ آفس کا حصہ ہے جہاں اکثریت برادرانِ وطن کی ہے؛یہاں عموماً لوگ اس انداز میں سلام نہیں کرتے ہیں بلکہ قریب آ کر کرتے ہیں، شناسا ہوں تو پہلے دیگر عملے سے سلام و کلام کرتے ہیں اور اگر غیر شناسا ہوں تو ظاہری حلیہ دیکھ کر اس حقیر سے رجوع کرتے ہیں۔
:ریٹائرڈ پروفیسر
آنے والے صاحب ہمارے رفیقِ کار اور شعبہ کے انچارج افسر سے متعارف تھے، چنانچہ وہ ان سے سلام و کلام اور خیریت کے تبادلہ کے بعد میری طرف متوجہ ہوئے؛ نام دریافت کیا اور جواب سن کر خاصے متاثر نظر آئے، کہنے لگے: ماشاء اللہ! نام کے اثرات تو ظاہری وضع قطع پر بھی نمایاں ہیں؛ معلوم ہوتا ہے کہ گھرانہ پڑھا لکھا اور دیندار ہے، حقیر نے ان کے حسنِ ظن کا جواب مسکرا کر شکریہ کے ساتھ دیا۔
کلیگ سے معلوم ہوا کہ موصوف مقامی کالج کے ایک ریٹائرڈ پروفیسر ہیں جو محض ملاقات اور تبادلۂ خیال کی خاطر کبھی کبھار آفس آ جایا کرتے ہیں؛ اس دوران وہ انچارج افسر کے ساتھ مختلف قسم کی گفتگو میں اسی جھناٹے دار اور بارعب آواز میں ارد گرد کے ماحول کی پرواہ کیے بغیر مشغول رہے؛ گفتگو میں شائستگی، تجربے کی جھلک، ذاتی و گھریلو زندگی میں دین سے بے اعتنائی کا غم، قومی پسماندگی کا درد اور اجتماعی زوال کا کرب نمایاں تھا۔
:مدارس پر تنقید اور خود احتسابی کی کمی
اس دوران ہم لوگ موصوف کی ضیافت کی خاطر کیمپس کے کینٹین میں آئے، چائے نوشی کے دوران بھی گفتگو جاری رہی اور پھر گفتگو نے مدارس کا رخ لے لیا؛ نظم و نسق، جدید تعلیم اور جدید معاشی تقاضوں کی تعلیم نہ ہونے کے حوالے سے تنقید و تبصرہ شروع ہو گیا؛ میں خاموش رہا اس لیے نہیں کہ جواب موجود نہ تھا بلکہ اس لیے کہ مادیت زدہ طبقہ کا اب یہ فیشن بن گیا ہے، بس تبصرہ در تبصرہ اور حل کے لیے کوئی اقدام نہیں۔
خیر چائے نوشی سے فارغ ہو کر انہیں رخصت کیا اور آفس میں آگئے، ابھی آ کر بیٹھے ہی تھے کہ دو دیگر حضرات تشریف لے آئے؛ دونوں چہرے مہرے، وضع قطع اور حرکات و سکنات سے مکمل ماڈرن تھے؛ تعارف پر پتہ چلا کہ ایک صاحب پاس کے گاؤں میں واقع مدرسہ بورڈ کے سکریٹری ہیں اور یہ بہار میں عام ہے کہ حکومت سے امداد یافتہ مدارس کے عہدے داران بالکل اسی قسم کے ہوتے ہیں۔
:محوِ حیرت
حیرت کی انتہاء اس وقت ہوئی جب دوسرے نے اپنے تعارف کے لاحقہ میں بتایا وہ فلاں سرکاری مدرسہ کے صدر مدرس ہیں، میرے لئے یہ پہلا موقع تھا کہ ایک دینی مدرسہ کے صدر مدرس جیسے باوقار اور علمی منصب پر فائز شخص کو اس انداز اور شناخت کے ساتھ دیکھا اور وہ بھی بلا تردد اپنا تعارف یوں کروا رہا تھا مانو یہ عہدہ اسے ہی زیب دیتا ہو۔
میں دیر تک محوِ حیرت رہا اور ذہن یہ سوچتا رہا کہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی ایک صاحب مدارس کی زبوں حالی پر نوحہ کناں تھے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انہی مدارس کے کلیدی عہدوں پر جہاں خالص اسلامی، دینی اور شرعی فکر کے حامل باوقار اور دینی شناخت کے عکاس افراد کو ہونا چاہیے؛ ایسے اشخاص بٹھائے جا رہے ہیں جو اس شناخت سے یکسر خالی ہیں اور پھر اسی صورتِ حال پر زوال کا شکوہ بھی کیا جاتا ہے۔
زوال کا شکوہ یا ذمہ داری سے فرار؟
یہاں مسئلہ صرف ظاہری اسلامی شناخت کا نہیں بلکہ فکری وابستگی کا ہے، دینی ادارے محض انتظامی عہدے نہیں بلکہ قومی و ملی امانت ہوتے ہیں؛ ان کی قیادت کے لیے ایسے افراد درکار ہوتے ہیں جن کا ظاہر، باطن، فکر اور ترجیحات سب اسلامی خد و خال میں تراشا ہوتبھی صحیح نتائج تک رسائی ہوگی۔
المیہ یہ ہے کہ ہم زوال کا شکوہ تو بلند آواز میں کرتے ہیں مگر زوال کے ذمہ دار کرداروں کو خود منتخب بھی کرتے ہیں اور جب نتائج برعکس آتے ہیں تو ذمہ داری کسی دوسرے کے سر ڈال دی جاتی ہے؛ اگر قوم و ملت کا واقعی شعور ہے تو اداروں پر تنقید کرنا چھوڑ کر اپنی کوتاہیوں کا جائزہ لیں، یہ طے کریں کہ نمائندگی کن لوگوں کو دینی ہے؟ قیادت کن ہاتھوں میں سونپنی ہے اور کن اقدار کو واقعی مقدم رکھنا ہے؟
https://alamir.in/madrasatul-banaat-ke-zimmedaraan-se-dard-mandaana-apeel/


