اپنی بات
(زیرِ ترتیب کتاب ”مصنوعی ذہانت: عصری آگہی اور عملی رہنمائی“ کا تعارف)
اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور عقل و شعور کی بے بہا نعمت سے نواز کر کائنات کے اسرار و رموز کی تسخیر کا شرف بخشا؛ تاریخِ انسانی کا ہر نیا دور علم، فکر اور ٹیکنالوجی کی ایک نئی کروٹ لے کر نمودار ہوتا رہا ہے اور وہ قومیں ہمیشہ فکری و عملی قیادت کے منصب پر فائز رہیں جنہوں نے بدلتے ہوئے زمانوں کے تغیرات کو بروقت سمجھا، پرکھا اور نفع بخش مقاصد کے لیے برتا۔
موجودہ صدی میں انسانی عقل کی سب سے حیرت انگیز، انقلابی اور دور رس پیش رفت ”مصنوعی ذہانت“ (Artificial Intelligence) کی شکل میں سامنے آئی ہے؛ یہ وہ ٹیکنالوجی ہے جو خاموشی سے لیکن پوری قوت کے ساتھ زندگی کے تمام شعبوں تعلیم، طب، صحافت، تجارت، زبان و ادب اور تحقیق کا نقشہ بدل رہی ہے؛ زیرِ نظر کتاب اسی غیر معمولی ٹیکنالوجی سے اردو داں حلقے کو باخبر، باصلاحیت اور متحرک بنانے کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے۔
اس کتاب کے پسِ منظر اور تحریر و ترتیب کا سفر کوئی اچانک یا محض رسمی قدم نہیں بلکہ یہ گزشتہ چند برسوں کی فکری بے چینی، مسلسل جستجو اور قلبی تقاضے کا نتیجہ ہے؛ جب سال ۲۰۲۰ء کے آس پاس پوری دنیا کورونا وائرس کی وبا کے باعث لاک ڈاؤن کی تنہائی اور سکوت میں محصور ہوئی تو اس حقیر نے اس فارغ وقت کو نئی چیزیں سیکھنے اور جدید رجحانات کے مطالعے میں صرف کرنے کی ٹھانی؛ اسی تلاش و جستجو کے دوران مصنوعی ذہانت کے سحر انگیز میدان سے واسطہ پڑا، اس وقت نہ صرف ہمارے خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی عام لوگوں کے درمیان مصنوعی ذہانت کی اصطلاح کچھ اتنی مانوس نہیں تھی؛ جوں جوں اس موضوع پر لٹریچر، ریسرچ پیپرز اور ابتدائی ٹولز کا مطالعہ آگے بڑھا، اس علم کی وسعت، اس کی حیرت انگیز منطق اور روزمرہ انسانی مسائل حل کرنے کی صلاحیت نے اس خاکسار کو دنگ کر دیا؛ یہی فطری تجسس اور حیرت اس میدان کو باضابطہ سیکھنے اور گہرائی میں اترنے کا سب سے بڑا محرک بنی۔
لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد ڈیجیٹل دنیا کا چلن نہایت برق رفتاری سے عام تر ہوتا چلا گیا، روزمرہ کے امور، تعلیم اور کام کے طریقوں میں آن لائن نظام رچ بس گیا اور رفتہ رفتہ دنیا مصنوعی ذہانت کی حیرت انگیز صلاحیتوں سے واقف ہونے لگی؛ مگر اس ہمہ گیر انقلاب کے باوجود اس حقیر نے شدت سے محسوس کیا کہ ہمارا اردو خواں طبقہ اس ٹیکنالوجی سے مکمل طور پر ناواقف اور بے تعلق ہے، اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ تھی کہ جو معدودے چند لوگ اس کے نام سے واقف تھے، ان کی اکثریت کے دل و دماغ میں بلاوجہ کا خوف، بدگمانی اور ہچکچاہٹ بیٹھی ہوئی تھی کہ یہ ٹیکنالوجی انسان کو بے روزگار کر دے گی، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لے گی یا ہماری اخلاقی و تہذیبی اقدار کو تہہ و بالا کر دے گی۔
چنانچہ اسی درد اور احساس نے اس حقیر کو قلم سنبھالنے پر آمادہ کیا، آج سے تقریباً تین سال قبل راقم نے اس موضوع پر باضابطہ طور پر سلیس اور آسان اردو میں مضامین قلم بند کرنا شروع کیے، جو راقم کی ذاتی ویب سائٹ ”علم و عمل“ (alamir.in) پر وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہے؛ ان مضامین کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ اردو کا باذوق اور باشعور طبقہ مصنوعی ذہانت سے غیر ضروری طور پر خائف ہونے کے بجائے اس کی اصل حقیقت، اس کی حدود اور اس کی کارکردگی کو سمجھے، اسے عملی طور پر سیکھے، اپنے دائرہ کار میں برتے اور اس سے اپنی زبان و قوم کی خدمت لے؛ الحمد للہ ان تحریروں کی پذیرائی اہلِ علم و دانش نے اس حقیر کی توقعات سے بڑھ کر فرمائی اور ان کی شفقت و حوصلہ افزائی نے اس علمی سفر کو جاری رکھنے کا عزم مزید پختہ کیا۔
ٹیکنالوجی کے اس دور کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہاں مہینوں کا فاصلہ دنوں میں اور دنوں کی پیش رفت لمحوں میں طے ہو جاتی ہے، جنریٹو اے آئی، لارج لینگویج ماڈلز اور خودکار سسٹمز کی روز افزوں ترقی کے ساتھ جڑے رہنے کے لیے صرف وقتاً فوقتاً مضامین لکھنا کافی نہیں لگ رہا تھا؛ چنانچہ قارئین سے براہِ راست اور تیز رفتار رابطے کے لیے چند ماہ قبل ”اردو اے آئی اکیڈمی“ کے عنوان سے ایک واٹس ایپ چینل کا آغاز کیا گیا، اس چینل پر مصنوعی ذہانت کے میدان میں روزمرہ کے نئے تجربات، کارآمد اے آئی ٹولز کی عملی تفہیم اور حالیہ اپڈیٹس کو مسلسل پیش کیا جا رہا ہے تاکہ ہمارا نوجوان اور اردو خواں طبقہ جدید دنیا کے شانہ بشانہ چلے اور کسی احساسِ کمتری کا شکار نہ ہو۔
اب سے تقریباً ایک ہفتہ قبل راقم کے دل میں یہ خیال شدت سے پیدا ہوا کہ مختلف پلیٹ فارمز، ویب سائٹ اور چینل پر بکھری ہوئی ان تحریروں، تجربات اور مباحث کو ایک مربوط کتابی شکل میں مدون کر دیا جائے؛ ڈیجیٹل مضامین بلاشبہ وقتی طور پر مفید ہوتے ہیں مگر ایک سنجیدہ قاری، طالب علم اور محقق کے لیے بکھرے ہوئے مضامین کے مقابلے میں ایک مرتب اور یکجا کتاب کہیں زیادہ سہل، پائیدار اور بنیادی حوالے کی حیثیت رکھتی ہے۔
زیرِ ترتیب کتاب ”مصنوعی ذہانت: عصری آگہی اور عملی رہنمائی“ اسی نیت اور فکر کی عملی تعبیر ہے؛ یہ کاوش کسی ماہرِ کمپیوٹر سائنس کا تکنیکی مقالہ نہیں ہے بلکہ ایک ایسے طالب علم کی دیانت دارانہ کوشش ہے جس نے اس ٹیکنالوجی کو خود سیکھا، برتا اور یہ چاہا کہ اس کی مادری زبان کے قارئین بھی اس کو اردو زبان میں سمجھیں، سیکھیں اور برتنے کا ہنر حاصل کریں؛ کمیوں اور کوتاہیوں کا امکان ہر بشری کوشش کا ناگزیر حصہ ہے، اہلِ نظر اور اصحابِ علم سے گزارش ہے کہ اگر کہیں کوئی فروگزاشت پائیں تو اصلاح فرما کر ممنون فرمائیں۔
آخر میں دست بہ دعا ہوں کہ باری تعالیٰ اس حقیر سی محنت کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اسے اردو زبان اور اردو خواں طبقے کے لیے نفع بخش بنائے اور ہمارے لیے علم و ٹیکنالوجی کے نئے دروازے کھولنے کا ذریعہ بنائے۔ آمین یا رب العالمین۔
خاکسار
امیر معاویہ قاسمی دربھنگوی
