مصنوعی ذہانت کی دنیا میں اس ہفتے کیا کچھ بدلا؟ ڈیزائن،تعلیم، کاروبار اور صحت کے نئے امکانات

مصنوعی ذہانت کی دنیا میں اس ہفتے کیا کچھ بدلا؟ ڈیزائن،تعلیم، کاروبار اور صحت کے نئے امکانات

 

​ امیر معاویہ قاسمی دربھنگوی | اردو اے آئی اکیڈمی✍️ 

 

​مصنوعی ذہانت کا میدان اس تیزی سے کروٹیں بدل رہا ہے کہ اگر انسان چند دنوں کے لیے بھی اس سے بے خبر ہو جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایک پورا عہد گزر گیا ہو لیکن ہمارا مقصد محض خبروں کا ڈھیر لگانا نہیں بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ ان نئی تبدیلیوں کا ہماری عملی زندگی، ہمارے کاروبار، درس و تدریس اور مستقبل پر کیا اثر پڑنے والا ہے؛ اکثر احباب یہ شکوہ کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کی خبریں اس قدر پیچیدہ اور مشینی الفاظ میں بیان کی جاتی ہیں کہ عام قاری ان کی اصل روح تک نہیں پہنچ پاتا؛ اسی ضرورت کے پیشِ نظر اردو اے آئی اکیڈمی کے پلیٹ فارم سے اس ہفتے کی پانچ بڑی اور اہم پیش رفت کو بالکل سادہ، عام فہم اور عملی زاویے سے پیش کیا جا رہا ہے۔

​١. کینوا کا اپنا تصویری ماڈل ”کینوا کرافٹ“: اب تصویر نہیں، مکمل ڈیزائن بنے گا

​گرافک ڈیزائننگ سے دلچسپی رکھنے والے حضرات جانتے ہیں کہ کینوا (Canva) نے عام انسان کے لیے ڈیزائننگ کو کس قدر آسان بنا دیا ہے؛ اب تک کینوا میں تصاویر بنانے کے لیے دوسری کمپنیوں کے ماڈلز کا سہارا لیا جاتا تھا، لیکن اس ہفتے کینوا کی تحقیقی ٹیم نے اپنا پہلا ذاتی ماڈل کینوا کرافٹ (Canva Craft)متعارف کرا دیا ہے؛ ​اس ماڈل کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اسے عام فوٹوگرافی کے بجائے لاکھوں اصلی ڈیزائن ٹیمپلیٹس، پوسٹرز، اشتہارات اور پریزنٹیشنز پر تربیت دی گئی ہے؛ عام اے آئی ماڈلز کو جب کوئی ہدایت دی جاتی ہے تو وہ براہِ راست تصویر بنا دیتے ہیں، جس کی وجہ سے اکثر تصویر کے اندر لکھے الفاظ بگڑ جاتے ہیں یا چیزیں بے ترتیب ہو جاتی ہیں؛ اس کے برعکس کینوا کرافٹ دو مرحلوں میں کام کرتا ہے: پہلے مرحلے میں یہ آپ کی ہدایت کو سمجھ کر ڈیزائن کا پورا خاکہ، الفاظ کی جگہ اور توازن طے کرتا ہے، اور دوسرے مرحلے میں ٹو کے (2K) کوالٹی کی صاف ستھری تصویر تیار کرتا ہے۔

​ہماری اردو کمیونٹی اور مواد بنانے والوں کے لیے خوش آئند بات یہ ہے کہ یہ ماڈل پچپن زبانوں میں متن لکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ”میجک لیئرز“ (Magic Layers) کے ذریعے تصویر کے ہر حصے کو الگ الگ تہوں میں تقسیم کر دیتا ہے تاکہ آپ بعد میں اپنی مرضی سے کسی بھی حصے میں تبدیلی کر سکیں۔

​٢. چھوٹے کاروبار اور تعلیمی مواد بنانے والوں کے لیے گوگل کے نئے تحفے

​بڑی کمپنیوں کے پاس تو ماہرین کی پوری فوج ہوتی ہے، لیکن ایک چھوٹا دکاندار، گھریلو ہنرمند یا استاذ اپنے روزمرہ کے کاموں میں وقت کیسے بچائے؟ اس ہفتے گوگل نے چھوٹے کاروباری افراد کے لیے جیمنائی کے نئے ٹولز پیش کیے ہیں جن کے ذریعے جیمنائی ایپ کے اندر ہی ایک مرکزی کاروباری ڈیش بورڈ فراہم کر دیا گیا ہے۔

​اب کوئی بھی چھوٹا کاروباری شخص اپنے برانڈ کا رنگ، فونٹ اور انداز ایک بار جیمنائی کو بتا دے تو وہ نینو بنانا 2.1 (Nano Banana 2.1) کی مدد سے ہمیشہ اسی انداز کے اشتہارات اور پوسٹرز تیار کرے گا؛ اس کے علاوہ بے ترتیب رسیدوں اور حساب کتاب کی فائلوں کو چند لمحوں میں واضح مالیاتی چارٹس میں بدل دے گا؛ گوگل نے اس موقع پر مہاراشٹر کے ایک کسان سنتوش جادھو کی بڑی خوبصورت مثال دی جنہوں نے کسی رسمی زرعی تعلیم کے بغیر جیمنائی کو بطور زرعی مشیر استعمال کر کے اپنی ادرک کی کاشت اور بجٹ کو جدید خطوط پر استوار کیا۔

​دوسری طرف اساتذہ اور تعلیمی مواد بنانے والوں کے لیے بھی گوگل نے دو اہم سہولتیں متعارف کرائی ہیں:
​گوگل کلاس روم میں جیمنائی نوٹ بک کے تحقیقی خلاصے (Insight Summaries): اب اساتذہ جب طلبہ کو کوئی تعلیمی نوٹ بک تفویض کریں گے تو جیمنائی خودکار طور پر استاذ کو خلاصہ بتائے گا کہ طلبہ کن موضوعات میں زیادہ سوالات پوچھ رہے ہیں اور کہاں انہیں سمجھنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔

​گوگل وڈز (Google Vids) میں رفتار کا نیا کنٹرول: تعلیمی ویڈیوز اور ٹیوٹوریلز بنانے والے اب کسی بیرونی سافٹ ویئر کے بغیر گوگل وڈز کے اندر ہی ویڈیو کے کسی حصے کو تیز (2x) یا انتہائی آہستہ (0.25x) کر سکتے ہیں تاکہ پیچیدہ تکنیکی مراحل کو طلبہ کے سامنے بآسانی واضح کیا جا سکے۔

​٣.اوپن اے آئی اور گوگل کلاؤڈ کی تاریخی شراکت داری

​ٹیکنالوجی کی دنیا میں گوگل اور اوپن اے آئی کو ایک دوسرے کا سب سے بڑا حریف سمجھا جاتا ہے، لیکن کاروباری دنیا میں ضرورتیں اکثر مقابلے کی دیواریں گرا دیتی ہیں؛ اس ہفتے اوپن اے آئی اور گوگل کلاؤڈ نے ایک تاریخی شراکت کا اعلان کیا ہے جس کے تحت اوپن اے آئی کے جدید ترین ماڈلز (جیسے GPT-6 Astra، GPT-6.1 Sol اور GPT-6.0 Luna) اور کوڈنگ ایجنٹ ”کوڈیکس“ (Codex) اب براہِ راست گوگل کلاؤڈ کے ماڈل گارڈن میں دستیاب ہوں گے۔

​اس کا سیدھا فائدہ ان اداروں اور سافٹ ویئر ڈویلپرز کو ہوگا جو پہلے سے گوگل کلاؤڈ کا محفوظ نظام استعمال کر رہے ہیں؛ اب انہیں اپنے پروجیکٹس کے لیے الگ الگ پلیٹ فارمز پر بھٹکنے کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ ایک ہی چھت کے نیچے وہ گوگل کے جیمنائی اور اوپن اے آئی کے ماڈلز میں سے جسے چاہیں اپنے کام کی نوعیت کے مطابق منتخب کر سکیں گے۔

​٤. صحت کے میدان میں بڑی پیش رفت: ڈاکٹر کا معاون بھی اور پیچیدہ امراض کا نباض بھی

​طب اور صحت کے شعبے میں اس ہفتے دو نہایت حوصلہ افزا تحقیقی نتائج سامنے آئے ہیں جو بتاتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت محض چیٹنگ کا کھلونا نہیں رہی بلکہ انسانی زندگی بچانے میں سنجیدہ کردار ادا کر رہی ہے:
​گوگل کا طبی تحقیقی نظام ”ایمی“ (AMIE): اکثر ہم ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو آدھا وقت فارم بھرنے اور ابتدائی سوالات کے جواب دینے میں گزر جاتا ہے؛ گوگل کے محققین نے ”ایمی“ کے نام سے ایک ایسا طبی معاون تیار کیا ہے جو ڈاکٹر سے ملاقات سے پہلے ہی مریض سے تفصیلی اور ہمدردانہ گفتگو کر کے بیماری کی نوعیت، آغاز اور علامات کا جامع خلاصہ تیار کر کے ڈاکٹر کے سامنے رکھ دیتا ہے؛ نتیجتاً ڈاکٹر کا قیمتی وقت کاغذی کارروائی کے بجائے مریض کی بات سننے اور بہتر علاج تجویز کرنے میں صرف ہوتا ہے۔

​مائیکروسافٹ کا طبی تشخیصی نظام (MAI-DxO): معروف سائنسی جریدے ”سائنس“ (Science) میں شائع ہونے والی مائیکروسافٹ اے آئی کی تحقیق نے طبی دنیا کو چونکا دیا ہے؛ یہ نظام کسی ایک ڈاکٹر کے بجائے ماہر ڈاکٹروں کے ایک مشاورتی بورڈ کی طرح مرحلہ وار سوالات کرتا ہے اور غیر ضروری ٹیسٹ لکھنے سے بچتا ہے؛ پیچیدہ ترین طبی کیسز میں جہاں عام ڈاکٹروں کی درست تشخیص کا تناسب 36.1 فیصد رہا، وہاں اس اے آئی نظام نے کم خرچ میں 83.2 فیصد درست تشخیص کر کے ایک نیا سنگِ میل عبور کیا ہے۔

​٥. سافٹ ویئر کی حفاظت: اے آئی جہاں خطرہ ہے وہیں مضبوط ڈھال بھی

​ہر طاقتور ہتھیار کی طرح مصنوعی ذہانت کا بھی دوہرا رخ ہے؛ اس ہفتے سافٹ ویئر کی دنیا میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب اے آئی ماڈلز کی مدد سے انٹرنیٹ کی ستر فیصد ویب سائٹس میں استعمال ہونے والی پروگرامنگ زبان ”پی ایچ پی“ (PHP) میں دہائیوں پرانی ایک انتہائی خطرناک خامی PHP2Shell دریافت ہوئی؛ یہ خامی اس قدر پیچیدہ تھی کہ عام انسانی محققین کے لیے اسے پکڑنا تقریباً ناممکن تھا، لیکن اے آئی نے اسے ڈھونڈ نکالا۔

​اس واقعے نے جہاں سائبر ماہرین کو چوکنا کیا کہ ہیکرز بھی اے آئی کا غلط استعمال کر سکتے ہیں، وہیں دفاعی محاذ پر ایک بڑا قدم بھی اٹھایا گیا؛ اوپن اے آئی نے پیچ دی پلینٹ (Patch the Planet) کے نام سے ایک عالمی مہم اور ایک ارب ڈالر کے سیکیورٹی فنڈ کا اعلان کیا ہے تاکہ ہسپتالوں، بینکوں اور عوامی اداروں کے پرانے سافٹ ویئر میں چھپی خامیوں کو ہیکرز کے پہنچنے سے پہلے ہی اے آئی کے ذریعے تلاش کر کے درست کیا جا سکے؛ اسی طرح گوگل کا پیج بریک (PageBreak) ایجنٹ بھی خودکار طور پر ویب ایپس کی کمزوریاں پکڑ کر انہیں محفوظ بنا رہا ہے۔
​

حاصلِ مطالعہ​

اس پورے ہفتے کی صورتِ حال پر غور کریں تو ایک بات بالکل واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ مصنوعی ذہانت اب محض تجربہ گاہوں یا بڑے ماہرین تک محدود نہیں رہی بلکہ ڈیزائنر کی میز، استاذ کے کمرۂ جماعت، چھوٹے تاجر کی دکان، ڈاکٹر کے مطب اور سافٹ ویئر کی حفاظت تک ہر جگہ اپنی جگہ بنا چکی ہے؛ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم محض تماشائی بننے یا بے بنیاد خوف میں مبتلا رہنے کے بجائے ان نئے اوزاروں کو سمجھیں، اپنی صلاحیتوں کو نکھاریں اور انہیں اپنے تعلیمی و پیشہ ورانہ سفر میں ایک ذمہ دار معاون کے طور پر استعمال کرنا سیکھیں۔

Translate »