اردو ڈائریکٹوریٹ کے زیرِ اہتمام فروغِ اردو کی سرگرمیوں کا جائزہ
ادب و تاریخ - تنقید و تجزیہ - فکری کالم

اُردو ڈائریکٹوریٹ کے زیرِ اہتمام فروغِ اردو کی سرگرمیوں کا جائزہ

اُردو ڈائریکٹوریٹ کے زیرِ اہتمام فروغِ اردو کی سرگرمیوں کا جائزہ

امیر معاویہ قاسمی دربھنگوی ✍️

یوں باغباں نے مہر لگا دی زبان پر
رودادِ غم نصیب کے مارے نہ کہہ سکے
سلام سندیلوی

:حکومتِ بہار کا مثالی کارنامہ

بہار میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا آئینی درجہ حاصل ہے اور اس حیثیت سے حکومت اور اس کے ادارے اس زبان و ادب کے فروغ میں جس سنجیدگی اور ادارہ جاتی نظم کے ساتھ مسلسل کوشاں ہیں، وہ ایک مثالی کارنامہ ہے؛ اُردو زبان کے فروغ کی باتیں محض رسمی اعلان یا کاغذی کاروائی تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے اثرات سرکاری دفاتر، تعلیمی و ادبی سرگرمیوں اور عوامی سطح پر صاف طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں؛ یہ وہ زمینی حقائق ہیں جس کا انکار حقائق سے چشم پوشی اور روشن دن میں سورج کے انکار کے مترادف ہے، یہ مضمون بہار میں اردو زبان و ادب کے فروغ کے مختلف پہلوؤں، اس کے ادارہ جاتی ڈھانچے، عملی صورتِ حال اور مجموعی اثرات کا سنجیدہ اور معروضی جائزہ لینے کی ایک کوشش ہے۔

:اردو ڈائریکٹوریٹ

حکومتِ بہار نے اردو زبان کے فروغ کو مؤثر اور بامقصد بنانے کے لیے اردو ڈائریکٹوریٹ کے نام سے ایک مستقل محکمہ قائم کر رکھا ہے، جسے مناسب بجٹ کے ساتھ مالی و انتظامی وسائل فراہم کیے جاتے ہیں؛ اس ادارہ کے ذریعے نہ صرف اردو کے فروغ سے متعلق منصوبہ بند سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں بلکہ سرکاری سطح پر اردو کے نفاذ اور اس کے عملی استعمال کو یقینی بنانے کی سنجیدہ کوششیں کی جاتی ہیں؛ اضلاع میں قائم اردو زبان سیل کے کاموں کی نہ صرف باقاعدہ نگرانی کی جاتی ہے بلکہ ماہانہ، سہ ماہی و سالانہ رپورٹس کے ذریعے ان کی پیش رفت اور کارکردگی کا جائزہ بھی لیا جاتا ہے۔

اُردو ڈائریکٹوریٹ کو اپنی انتظامی ضروریات کے مطابق ملازمین کی تقرری کا اختیار حاصل ہے جس کے تحت اردو مترجمین، معاون اردو مترجمین اور ہندی-اردو محررین کی بحالی عمل میں آتی ہے؛ ان ملازمین سے متعلق تمام انتظامی امور جن میں سہولیات کی فراہمی، سروس کنڈیشنز، ترقی و تقرری یا دیگر ذمہ داریوں سے وابستہ معاملات شامل ہیں اور یہ سب حکومتِ بہار کی جانب سے جاری کردہ رہنما خطوط اور قواعد کے مطابق انجام دیئے جاتے ہیں۔

:ضلع اردو زبان سیل

اُردو ڈائریکٹوریٹ کے تحت ریاست کے ہر ضلع میں ایک فعال یونٹ قائم ہے، جسے ضلع اردو زبان سیل کے نام سے جانا جاتا ہے؛ یہ یونٹ ضلع کی سطح پر اردو زبان کے فروغ، نفاذ اور سرکاری امور میں اس کے مؤثر استعمال کا اہم ذریعہ ہے۔

ضلع اردو زبان سیل کی ذمہ داریوں میں اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیےمؤثر اقدامات کرنا؛ سرکاری نوٹس، احکامات اور خطوط کا اردو میں ترجمہ کرنا؛ اردو زبان و ادب سے متعلق رہنمائی فراہم کرنا، علاقائی اردو ادباء و شعراء کی تخلیقات کو قارئین تک پہنچانا؛ طلبہ و طالبات میں تعمیری اور مسابقتی رجحان پیدا کرنا، نیز اردو کے نفاذ سے متعلق موصول ہونے والی شکایات کا ازالہ کرنا شامل ہے۔

:ڈائریکٹر سر: اعلیٰ منتظم و صاحبِ طرز ادیب

اردو ڈائریکٹوریٹ کے موجودہ ڈائریکٹر جناب ایس۔ ایم۔ پرویز عالم صاحب صرف ایک اعلیٰ منتظم نہیں بلکہ ایک صاحبِ طرز ادیب اور قادرالکلام شاعر ہیں؛ اردو سے ان کی وابستگی محض ادارہ جاتی نظم و نسق تک محدود نہیں بلکہ ایک گہری جذباتی نسبت رکھتی ہے؛ اردو ان کی فکر، احساس اور دھڑکنوں میں بستی ہے؛ یہی وجہ ہے کہ وہ اردو کو صرف ملازمتوں یا رسمی سرکاری خانوں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایک مکمل اور فعال سرکاری زبان کے طور پر رائج دیکھنا چاہتے ہیں۔

اسی جذبے کے تحت وہ سرکاری دفاتر میں اردو کے عملی استعمال پر خصوصی توجہ دیتے ہیں، ضلعی یونٹوں کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی کرتے ہیں اور اردو ڈائریکٹوریٹ کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے ضلعی و صوبائی پروگراموں میں بنفسِ نفیس شریک ہوتے ہیں؛ افسران کے ناموں کی تختیوں، سرکاری عمارتوں کے کتبوں اور دفتری شناخت میں اردو کی نمایاں موجودگی کے لیے وہ نہ صرف سرکاری احکامات کی بار بار یاد دہانی کراتے ہیں بلکہ ان پر عمل درآمد کو یقینی بناتے ہیں تاکہ اردو زبان کے فروغ اور سرکاری سطح پر اس کے مؤثر نفاذ سے متعلق طے شدہ اہداف کو احسن اور مؤثر طریقے سے حاصل کیا جا سکے۔

:فروغِ اردو سیمینار کے حوالے سے تنقید کا جائزہ

گزشتہ چند روز سے میڈیا و سوشل میڈیا کے ہنگامہ خیز منظرنامے پر مختلف اضلاع میں منعقد ہونے والے سالانہ فروغِ اردو سیمینار موضوعِ بحث بنا ہوا ہے؛ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس بحث کا بڑا حصہ سنجیدہ تجزیے کے بجائے طنز، طعن اور غیر ذمہ دارانہ تبصروں پر مشتمل ہے؛ بعض وہ حضرات جو کسی سبب ان تقریبات میں شریک نہ ہو سکے، ان کا سہارا لے کر یا دور سے اندازہ لگا کر اور آدھی ادھوری معلومات کی بنیاد پر ان پروگراموں کی نیت، نوعیت اور افادیت پر سوالیہ نشان لگانے میں مصروف ہیں۔

    میں یہ نہیں کہتا کہ سب باتیں بے بنیاد ہیں یا سب محض الزام ہے، یقیناً بعض مقامات پر کمیاں رہ جاتی ہیں اور کہیں نہ کہیں کوتاہیاں بھی ہو جاتی ہیں مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اسے سرِبازار اچھال کر خدمات کو یکسر نظرانداز کر دیا جائے یا یہ تاثر دیا جائے کہ گویا کچھ ہو ہی نہیں رہا، بس رسمی طور پر کام چلایا جا رہا ہے۔

جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اردو ڈائریکٹوریٹ جن مقاصد کے تحت ان پروگراموں کا انعقاد کراتا ہے، یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے اہداف کے اعتبار سے سو فیصد کامیاب ہے؛ کیوں کہ جس عملی اور انتظامی ماحول میں یہ تقریبات منعقد ہوتے ہیں، وہاں اردو زبان سے متعلق کسی پروگرام کا منعقد ہو جانا ہی درحقیقت اردو ملازمین کی محنت، خلوص اور کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔

   یہ حقیر ضلع اردو زبان سیل مدھوبنی کلکٹریٹ میں بحیثیت معاون اردو مترجم خدمت انجام دے رہا ہے، اس شعبے سے وابستہ ہوئے مجھے سال لگنے والا ہے؛ اس دوران ضلع اردو زبان سیل مدھوبنی کی جانب سے ضلع میں مامور اُردو ملازمین کی مشترکہ کوششوں سے متعدد کامیاب اور مؤثر پروگرام منعقد کیے گئے؛ جن پر اہلِ قلم اور اربابِ نظر کی جانب سے نہایت حوصلہ افزا تبصرے اور مثبت کلمات موصول ہوئے اور بلاشبہ اس کا اصل کریڈٹ اُردو ڈائریکٹوریٹ کو جاتا ہے جو اپنی ہمہ جہت فعالیت اور اُردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے مؤثر و نتیجہ خیز اقدامات کی ایک روشن مثال ہے۔

اس کے باوجود کوئی خامی رہ جائے اور صاحبِ نظر کی نظر میں آ جائے تو اُردو سے وابستگی کا تقاضا اور خیر خواہوں کے ساتھ معاملہ کرنے کا سلیقہ یہ ہے کہ خامیوں کو شور و غوغا بنا کر عام نہ کیا جائے بلکہ حسنِ اسلوب کے ساتھ متعلقہ افراد یا ادارے تک پہنچایا جائے تاکہ اصلاح بھی ہو جائے اور بات بے جا طور پر نہ پھیلے، عوامی مجلس میں بات رکھنے سے فائدہ تو کجا نقصان ہی ہوتا ہے، اب تک کے تجربات اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں۔

اس ملک میں مخصوص طبقے سے وابستہ کئی ایسے ادارے ہیں جن کی خامیوں کو بجائے اصلاح کی سنجیدہ کوششوں کے سرخیوں میں اچھالا گیا، نتیجہ یہ ہوا کہ فرقہ پرست عناصر ان اداروں پر الزام در الزام عائد کر کے کورٹ کچہریوں میں لے گئے یا حکومتی قدغنیں لگوانے میں کامیاب ہو گئے اور اب بھی کئی ادارے نشانے پر ہیں؛ اس کے پس منظر میں اکثر اپنوں ہی کے عوامی سطح پر غیر دانشمندانہ بیانات اور غیر محتاط تحریروں کا کردار رہا ہے؛ میں ان اداروں کی مثالیں نام لے کر پیش کرنا نہیں چاہتا، اہلِ نظر اور صاحبِ فہم کی نگاہوں میں سب عیاں ہیں۔

:نفرت کی آندھی میں محبت کا چراغ

گزشتہ چند برسوں میں ملک کے حالات نے اس قدر تیزی سے کروٹ لی ہے کہ ایک مخصوص طبقے کے حوالے سے برادرانِ وطن کے اذہان زہر آلود کر دئیے گئے ہیں اور اس کے منفی اثرات زندگی کے ہر شعبے میں محسوس کیے جا رہے ہیں؛ انسان تو انسان زبان و ادب بھی اس سے اچھوت نہیں رہا اور اُردو تو ہے ہی ایک مخصوص طبقہ کی طرف منسوب زبان، چنانچہ یہ زبان اور اس کے خدمت گار بھی اس زہریلے ماحول سے محفوظ نہیں رہ سکے۔

ایسے نامساعد حالات کے باوجود اردو ڈائریکٹوریٹ اور اس کے وابستہ ملازمین اردو کے چراغ کو بجھنے دینے کے بجائے اس کی لو کو دن بہ دن تیز کرنے میں مصروف ہیں؛ اس صورتِ حال کا تقاضا یہ ہے کہ ان کوششوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ اردو کا یہ قافلہ پورے اعتماد کے ساتھ اپنی منزل کی جانب رواں دواں رہے نہ کہ بے جا تنقید اور حوصلہ شکنی کی جائے کہ راستہ بدلنے پر مجبور ہو جائے۔

:عوام و خواص کو خود احتسابی کی ضرورت

اردو برادری اور خصوصاً اردو کے نام پر اپنی دکان چمکانے والوں کو بھی چاہیے کہ وہ ذرا اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ اردو کے تئیں ان کی سنجیدگی کی سطح کیا ہے اور وہ اس زبان کی بقاء اور فروغ کے لیے عملاً کتنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ہمارے ضلع کے انچارج افسر جناب معراج احمد صاحب کی یہ مستقل کوشش رہتی ہے کہ ہر پروگرام میں نئے چہرے، نئے تخلیق کار اور نئے شعراء کو آگے آنے کا موقع دیا جائے؛ اسی لیے وہ ضلع بھر کے قدیم و جدید ادباء و شعراء کی تلاش و جستجو میں رہتے ہیں اور بذاتِ خود ان سے رابطہ کرتے ہیں مگر عملی تجربہ یہ بتاتا ہے کہ ادب کے نام پر اپنی ساکھ بنانے والے بعض افراد سب سے پہلے معاوضے کی بات کرتے ہیں اور پھر اسی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں کہ پروگرام میں شرکت کرنی ہے یا نہیں، بعض تو معاوضہ کا سن کر صاف انکار کر دیتے ہیں۔

اور بعض کا حال یہ ہے کہ وہ اس بات پر مصر رہتے ہیں کہ انہیں ایسی کیٹیگری میں موقع دیا جائے، جس میں کام کم اور نام و نمود زیادہ ہو؛ اس سے بھی زیادہ نازک اور افسوس ناک صورتِ حال یہ ہے کہ جب ان سے اپنے علاقے کے نوخیز یا غیر معروف قلم کاروں کے بارے میں دریافت کیا جاتا ہے تو وہ دانستہ ان کا تعارف کرانے سے گریز کرتے ہیں، محض اس اندیشے سے کہ کہیں آئندہ پروگراموں میں ان نئے قلم کاروں کو مدعو نہ کر لیا جائے۔

عوام کا حال بھی اس سے کچھ مختلف نہیں، جب طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کے لیے تقریری اور مسابقتی پروگراموں کی غرض سے مختلف سرکاری و نجی اسکولوں کا رخ کیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ نئے طلبہ کو اردو سے جوڑا جائے اور جہاں اردو موجود نہیں وہاں اُردو کا چراغ روشن کیا جائے تو افسوس کہ اکثر اردو نام رکھنے والے ہی عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

:ضرورت مثبت و مشترکہ کوشش کی

مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں یہ بات پورے احساسِ ذمہ داری کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ اردو کی بقاء اور اس کے فروغ کی جنگ محض کسی ایک ادارے، ایک افسر یا چند ملازمین کی نہیں بلکہ یہ ہم سب کی مشترکہ کوششوں کا طلب گار ہے؛ ایسے نامساعد حالات میں جب تعصبات کی آندھیاں زبانوں کی جڑیں کمزور کرنے پر تلی ہوں، اردو ڈائریکٹوریٹ اور اس کے وابستگان چراغِ اردو کو ہاتھوں میں تھامے ہوا کے رخ کے خلاف کھڑے ہیں؛ اس موقع پر ان کے ہاتھ مضبوط کرنے کے بجائے اگر ہم طنز، تشکیک اور حوصلہ شکنی کا راستہ اختیار کریں گے تو نقصان اردو کا نہیں بلکہ ہماری اپنی تہذیبی شناخت کا ہوگا۔

پس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اختلاف کو خیر خواہی میں بدلیں، تنقید کو اصلاح کا ذریعہ بنائیں اور اپنے حصے کا دیا خود جلائیں؛ کیوں کہ اردو کے فروغ کی تمام ذمہ داری صرف سرکاری اداروں پر ڈال دینے سے مقصد حاصل نہیں ہو سکتا، اردو کی بقاء اور ترقی کی خاطر اردو داں طبقے کے عوام و خواص سب کو مشترکہ طور پر اپنی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی تاکہ اردو پوری آب و تاب کے ساتھ رواں رہے اور آنے والی نسلوں تک منتقل ہو سکے۔

 

https://alamir.in/zila-urdu-nama-madhubani2-25-26/

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *