بپارڈ کی سب سے نمایاں خصوصیت

امیر معاویہ قاسمی دربھنگوی

زندگی کے سفر میں بعض ادارے ایسے مل جاتے ہیں جو اپنی عمارتوں، سہولیات یا نظم و نسق سے زیادہ وہاں کے لوگوں، ان کے رویوں اور خوشگوار تجربات کی وجہ سے یاد رہ جاتے ہیں؛ بپارڈ بھی ہمارے لیے ایسا ہی ایک ادارہ ثابت ہوا، دو ماہ کا یہ قیام اگرچہ ایک سرکاری تربیتی پروگرام کا حصہ تھا لیکن واپسی کے وقت احساس ہوا کہ ہم اپنے ساتھ صرف تربیت اور اسناد ہی نہیں بلکہ بہت سی خوشگوار یادیں، اچھے تعلقات اور ایسے تاثرات بھی لے جا رہے ہیں جو مدتوں ہمارے ذہن و دماغ میں تازہ رہیں گے۔

بہار انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن اینڈ رورل ڈیولپمنٹ (BIPARD) بہار حکومت کا ایک مرکزی تربیتی اور تحقیقی ادارہ ہے جو سرکاری افسران، ملازمین اور مختلف محکموں کے اہلکاروں کی صلاحیت سازی، انتظامی تربیت اور پیشہ ورانہ رہنمائی کے لیے قائم کیا گیا ہے؛ سن 2005 میں انتظامی تربیتی ادارہ (ATI) اور اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف رورل ڈیولپمنٹ (SIRD) کو یکجا کر کے اس کی تشکیل عمل میں آئی؛ ابتدا میں اس کا مرکز پھلواری شریف پٹنہ تھا، جہاں طویل عرصے تک ریاستی سطح کی تمام طرح کی تربیتی سرگرمیاں جاری رہیں اور اب بھی بعض تربیتی سرگرمیاں جاری ہیں۔

لیکن جب تربیتی ضروریات میں اضافہ ہوا تو گیا ضلع کے کُسدھرا میں ایک جدید اور وسیع و عریض کیمپس قائم کیا گیا، جس کا باقاعدہ افتتاح دو اکتوبر 2022 کو ہوا؛ یہ بپارڈ کا ہیڈکوارٹر ہے اور زیادہ تر ریاستی سطح کی تربیتیں اسی کیمپس میں منعقد ہوتی ہیں؛ یہاں ہر طرح کے تمام تر جدید سہولیات، جدید درسگاہیں، جدید رہائش گاہیں، کمپیوٹر لیب، لائبریری، آلات ورزش، سامانِ تفریح اور دیگر تربیتی وسائل موجود ہیں؛ عمدہ نظم و نسق اور مؤثر تربیتی خاکہ کی بنیاد پر تربیت کے میدان میں بپارڈ نہ صرف بہار بلکہ ملک کے ممتاز اداروں میں شمار ہوتا ہے اور ریاستی نظم و نسق کو مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

ہم لوگ اُردو مترجمین کے پانچویں بیچ کی حیثیت سے یہاں انتیس مارچ کو تربیت کے لیے آئے تھے اور ستائیس مئی تک قیام رہا، ہم سے پہلے چار بیچ اپنی تربیت مکمل کر کے جا چکے تھے، ہر بیچ میں دو سو افراد شامل تھے؛ ہم میں پچانوے فیصد زیادہ مسلمان ہیں اور ان میں بھی بڑی تعداد قریب ستر فیصد مدارس کے فضلاء کی ہے؛ ہمارے ظاہری خد و خال اور طرزِ زندگی سے ہماری مذہبی شناخت نمایاں تھی لیکن بپارڈ میں قیام کے پورے عرصے میں ہمیں کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ ہماری یہ شناخت کسی طرح کے امتیاز یا تعصب کا سبب بن سکتی ہے۔

دو ماہ کے اس طویل قیام میں کبھی ایک لمحے کے لیے بھی یہ احساس پیدا نہیں ہوا کہ ہم کسی اعتبار سے دوسروں سے مختلف ہیں؛ رہائش، طعام، انتظامی سہولیات اور روزمرہ کے معاملات میں ہر جگہ مساوات، احترام اور خلوص کا عملی نمونہ دیکھنے کو ملا؛ ہر مقام پر ہمیں ایک ذمہ دار سرکاری افسر کی حیثیت سے وہی عزت، احترام اور تعاون ملا جس کی ایک مہذب ادارے سے توقع کی جاتی ہے؛ ہمارے لیے یہ باعث اعزاز رہا کہ انتظامیہ نے ہمارے نظم و ضبط اور اصولوں کی پابندی کو سراہا بلکہ مختلف مواقع پر اور ڈائریکٹر سر کے سامنے بھی ذمہ داران نے کھل کر اس بات کا اظہار کیا کہ اُردو بیچ کے شرکاء ہدایات پر عمل کرنے اور ادارے کے نظم کو برقرار رکھنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

بپارڈ کی انتظامیہ کا مثبت رویہ صرف باتوں تک محدود نہیں تھا بلکہ عملی طور پر بھی محسوس ہوتا تھا؛ ہماری طرف سے دارالاقامہ، دارالطعام یا دیگر سہولیات کے بارے میں جو تجاویز یا گزارشات پیش کی جاتی ان پر حتی المقدور توجہ دی جاتی تھی؛ مثلاً ہم سے پہلے والے بیچ نے مرکزی داخلی دروازہ اور مرکزی درسگاہ کے پیشانی پر انگلش و ہندی کے ساتھ اُردو زبان کو بھی جگہ دینے کی درخواست کی تھی جسے نہ صرف خوش دلی سے قبول کیا گیا تھا بلکہ اسےعملی جامہ بھی پہنا دیا گیا تھا؛ اور جب ہمارا قافلہ تربیت کے لئے پہنچا ہے تو ہم نے پایا کہ ان جگہوں پر ہندی اور انگریزی کے ساتھ اُردو بھی نمایاں ہے۔

اسی طرح جب ڈائرکٹر جنرل ڈاکٹر بی راجندر صاحب ہمارے درمیان تشریف لائے اور گفتگو کے دوران ہم نے رہائشی عمارتوں، مطبخ اور تدریسی ہال کے نام دیگر زبانوں کے ساتھ اُردو میں بھی لکھنے کی درخواست کی تو انہوں نے فوری طور پر رو بہ عمل لانے کی یقین دہانی کرائی اور حیرت انگیز طور پر اگلے دن شام ڈھلتے ڈھلتے ہر جگہ اردوتختی آویزاں نظر آئی؛ یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ ادارہ مختلف زبانوں اور ثقافتی شناختوں کے احترام کو اہمیت دیتا ہے۔

ان دو ماہ کے دوران ادنیٰ ملازم سے لے کر اعلیٰ افسر تک کسی کے بھی رویے میں مذہبی، لسانی یا نسلی تعصب کی کوئی جھلک محسوس نہیں ہوئی اور یہی بپارڈ کی سب سے نمایاں خصوصیت ہے؛ ہماری خوش نصیبی تھی کہ ہم ایسے ادارے میں تربیت کے لئے رہے جہاں انسان کو اس کی صلاحیت، کردار اور ذمہ داری سے پہچانا جاتا ہے نہ کہ اس کی زبان، مذہب یا سماجی پس منظر سے؛ یہاں کے تجربات نے یہ یقین مزید پختہ کر دیا کہ مختلف پس منظر رکھنے والے لوگ اگر ایک دوسرے کے احترام اور خیرخواہی کے جذبے کے ساتھ مل کر چلیں تو نہ صرف ایک بہترین ادارہ وجود میں آتا ہے بلکہ ایک مضبوط اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد بھی استوار ہوتی ہے۔

انہی خوبیوں اور خوشگوار تجربات کی وجہ سے بپارڈ میں گزارے ہوئے دن، وہاں کے لوگوں کا اپنائیت بھرا رویہ، انتظامیہ کا تعاون، عملے کا خلوص اور ساتھیوں کی رفاقت ہماری زندگی کی ان خوبصورت یادوں میں شامل ہے جو مدتوں ہمارے ساتھ رہیں گی۔

Translate »