مصنوعی ذہانت: خدشات، حقائق اور امکانات
مصنوعی ذہانت: خدشات، حقائق اور امکانات

مصنوعی ذہانت: خدشات، حقائق اور امکانات

امیر معاویہ قاسمی دربھنگوی

 

چند دن قبل ایک عزیزہ کا پیغام موصول ہوا کہ کوئی ایسے ہنر کی طرف رہنمائی کیجئے جو گھر بیٹھے سیکھی جا سکے اور مستقبل میں آمدنی کا ذریعہ بھی بن سکے، وہ ایک ادارہ میں معلمہ ہیں اور نئی نئی مہارتیں سیکھنے کا شوق رکھتی ہیں؛ ان کے شوق کو دیکھتے ہوئے کہا: اے آئی یعنی مصنوعی ذہانت سیکھ لیجیے! آنے والے زمانے میں اس کی اہمیت غیر معمولی ہونے والی ہے اور جو اس فن کا ماہر ہوگا، وہی عہدِ مستقبل کی رفتار کے ساتھ قدم ملا سکے گا۔
میری بات مکمل ہوتے ہی اس نے تشویش آمیز لہجے میں کہا: یہ تو دجالی فتنہ معلوم ہوتا ہے بلکہ یوں لگتا ہے جیسے دشمنوں کی کسی منظم سازش کا حصہ ہے؛ ان کا یہ ردِّ عمل میرے لیے غیر متوقع نہیں تھا کیوں کہ وہ تدریسی ذمہ داریوں کے ساتھ امورِ خانہ داری کے فرائض بھی انجام دیتی ہیں، اس لیے  ممکن ہے کہ انہیں تیزی سے بدلتی ہوئی تکنیکی دنیا کو قریب سے جاننے اور  سمجھنے کا خاطر خواہ موقع نہیں مل سکا ہوگا۔
لیکن یہ معاملہ کسی ایک فرد تک محدود نہیں، ہمارے معاشرے میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو مصنوعی ذہانت کی حقیقت، افادیت اور وسعتِ کار
سے پوری طرح آگاہ نہیں؛ چنانچہ محدود معلومات، سنی سنائی باتوں اور بے بنیاد خدشات کی وجہ سے  اس کے بارے میں مختلف غلط فہمیوں کا شکار ہیں؛ کوئی اسے فتنہ قرار دیتا ہے، کوئی انسانی ذہانت اور فکر کے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور کوئی اس کے استعمال کو علمی و تخلیقی صلاحیتوں کے زوال کا پیش خیمہ تصور کرتا ہے اور افسوس ہے کہ یہ سب لاعلمی اور بدگمانی کی بنیاد پر  ہے۔
حالاں کہ ہر نئی ایجاد کی طرح مصنوعی ذہانت بھی نہ خیرِ مطلق ہے اور نہ شرِ مطلق، اس کی افادیت اور مضرت کا انحصار اس بات پر ہے کہ اسے کس مقصد اور کس انداز میں استعمال کیا جاتا ہے؛ بدقسمتی سے ہماری کمیونٹی کا رویہ ہمیشہ سے یہی رہا کہ جب بھی کوئی نئی ٹیکنالوجی انسانی زندگی میں داخل ہوئی، ہم نے اسے سمجھنے اور اپنانے کے بجائے شکوک و شبہات کی نگاہ سے دیکھا، اندیشوں میں گھرے رہے اور خود کو اس سے دور رکھا؛ پھر جب دنیا اس میدان میں بہت آگے نکل گئی تو پیچھے رہ جانے والوں کی طرح محض خوشہ چینی پر اکتفا کرتے رہے۔
مصنوعی ذہانت کو محض مضامین لکھنے، تصاویر تخلیق کرنے، ویڈیوز بنانے یا تفریح کا ذریعہ سمجھنے تک محدود رکھنا، اس کی وسعتوں کو ایک تنگ  دائرے میں مقید کر دینے کے مترادف ہے؛ حقیقت یہ ہے کہ آج دنیا کے بڑے بڑے طبی تحقیقی مراکز کینسر سمیت متعدد پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں اس کی مدد حاصل کر رہے ہیں، نئی دواؤں کی دریافت کا عمل جس میں کبھی برسوں لگتا تھا، اس کی مدد سے اب پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے ہو رہا ہے؛ موسمیاتی تحقیق، قدرتی آفات کی پیشیں گوئی، سائبر سیکیورٹی، مالیاتی نظام اور صنعتی منصوبہ بندی سمیت متعدد شعبوں میں مصنوعی ذہانت ایک مؤثر اور ناگزیر کردار ادا کر رہی ہے۔
میدان جنگ بھی مصنوعی ذہانت کے اثرات سے محفوظ نہیں رہے، آج دنیا کی بڑی طاقتیں نگرانی، جاسوسی، ہدف کی شناخت، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر جنگ اور عسکری منصوبہ بندی میں مصنوعی ذہانت سے بھرپور استفادہ کر رہی ہیں؛یہ لمحوں میں وسیع مقدار میں معلومات کا تجزیہ کرکے دشمن کی نقل و حرکت، ممکنہ خطرات اور حکمتِ عملی سے متعلق اہم اشارے فراہم کر دیتے ہیں، جس سے فیصلہ سازی کی رفتار میں اضافہ اور ہدف تک رسائی میں آسانی  ہوتی ہے۔
حالیہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نے بھی یہ واضح کر دیا ہے کہ جدید جنگیں صرف توپ، ٹینک اور لڑاکا طیاروں سے نہیں لڑی جاتیں بلکہ مصنوعی ذہانت ان کا ایک اہم ہتھیار بنتی جا رہی ہے؛ اطلاعات کے مطابق تمام فریق نگرانی، انٹیلی جنس تجزیے، ڈرون حملے، میزائل دفاعی نظاموں اور عسکری منصوبہ بندی میں مصنوعی ذہانت سے مدد لے رہے ہیں؛جس کی بدولت وسیع معلومات کا تجزیہ اور اہداف کی نشاندہی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے ممکن ہو رہی ہے۔
مصنوعی ذہانت ابھی اپنے ابتدائی ارتقائی مراحل میں ہے اور ہم جس شکل میں آج اسے دیکھ رہے ہیں، ماہرین کے نزدیک یہ اس کی حتمی صورت نہیں؛ فی الحال انسان ہی اسے تشکیل دے رہا ہے، اس کی رہنمائی کر رہا ہے اور اس کی مدد سے نئے نئے کام لے رہا ہے لیکن ماہرین کی پیشیں گوئی ہے کہ آنے والے برسوں میں مصنوعی ذہانت اس قدر ترقی کر جائے گی کہ وہ بہت سے معاملات میں خود تجزیہ کرنے، نتائج اخذ کرنے اور نئے حل تجویز کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے گی اور انسانی ضرورتوں کو سمجھتے ہوئے وہ ایسے بہت سے کام بغیر کسی انسانی ہدایت کے انجام دے سکے گی جن کے لیے آج براہِ راست انسانی مداخلت ناگزیر سمجھی جاتی ہے؛ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بڑے سرمایہ کار، عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں اور تحقیقی مراکز مصنوعی ذہانت پر بے مثال سرمایہ کاری کر رہی ہیں اور اسے مستقبل کی معیشت، تعلیم، تحقیق اور ترقی کا بنیادی ستون قرار دے رہی ہیں۔
میری وہ عزیزہ بھی ابتدا میں اسے ایک پراسرار اور خوفناک چیز سمجھتی تھیں لیکن جب میں نے انہیں مصنوعی ذہانت پر اپنی چند پرانی تحریریں بھیجیں اور اس نے اس کا مطالعہ کیا تو ان کی رائے بدلنے لگی، اب وہ اسے سیکھنے کی کوشش کر رہی ہیں؛ میرے نزدیک یہی وہ رویہ ہے جسے فروغ دینے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی چیز کو ردّ کرنے سے پہلے اسے سمجھنا چاہیے، مخالفت کرنے سے پہلے اس کے بارے میں جاننا چاہیے اور خوف زدہ ہونے سے پہلے اس کی حقیقت کا غیر جانب دارانہ مطالعہ کرنا چاہیے؛ یاد رکھیں کہ مستقبل انہی لوگوں کا ہوگا جو مصنوعی ذہانت کے ساتھ مل کر زیادہ مؤثر، زیادہ تخلیقی اور زیادہ بامقصد انداز میں کام کرنے کے قابل ہوں گے۔
Translate »