اساتذۂ مدارس کے معاشی استحکام کی فکر کیجئے

اساتذۂ مدارس کے معاشی استحکام کی فکر کیجئے
اساتذۂ مدارس کے معاشی استحکام کی فکر کیجئے

اساتذۂ مدارس کے معاشی استحکام کی فکر کیجئے

امیر معاویہ قاسمی دربھنگوی

گزشہ کل آفس سے گھر پہنچتے پہنچتے رات کے نو بج گئے جب کہ معمول سات بجے تک پہنچ جانے کا ہے؛ ایک تو راستہ میں ملتے ملاتے تاخیر ہوتی چلی گئی اور دوسرے جب شکری پہنچا اور ایک میڈیکل پر دوا لینے کے لیے رکا تو وہاں ایک شناسا مولانا مل گئے؛ ان سے شناسائی بس اتنی تھی کہ شکری سے گزرتے ہوئے لبِ سڑک واقع مدرسے پر اکثر نظر پڑ جایا کرتی تھی، جہاں وہ بچوں کو پڑھانے میں مصروف دکھائی دیتے تھے اور کبھی کبھار اسی مدرسے کے بالمقابل واقع مسجد میں مغرب کی نماز ادا کرتے ہوئے بھی ان سے سامنا ہو جاتا اور چلتے چلتے سلام و دعا کا تبادلہ ہو جاتا تھا۔

اسی تعارف کے باعث موصوف نے میرا گاؤں دریافت کیا، میں نے بتایا تو کہنے لگے:”ذرا دو منٹ وقت دیجیے“ اور میرا ہاتھ پکڑ کر کنارے لے گئے؛ پھر نہایت درد بھرے لہجے میں اپنے جوان بیٹے کے کینسر میں مبتلا ہونے کا ذکر شروع کیا اور اس مرض کے لاحق ہونے کی تفصیل بیان کرنے لگے؛ بچہ مظفرپور کے ایک کینسر اسپتال میں زیرِ علاج ہے اور اس وقت کیمو تھراپی چل رہی ہے، مولانا کے پاس پانچ لاکھ روپے پس انداز تھے، وہ سب علاج پر خرچ ہو چکے ہیں اور پچھلے پانچ ماہ سے تنخواہ بھی نہیں ملی ہے؛ چنانچہ ان کے پاس جو کچھ تھا، سب بیچ کر علاج میں لگا دیا اور اب وہ مجبوراََ علاج کے لیے ملاقاتیوں کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے پر مجبور ہیں۔

موصوف کی بات سن کر چند روز قبل کینسر کے سبب وفات پانے والے ایک معروف ادارے کے قاری صاحب مرحوم کا واقعہ ذہن کے پردۂ خیال پر گردش کرنے لگا، ان کے والدِ محترم نے عمر بھر اسی ادارے کی خدمت میں گزار دی تھی اور خود قاری صاحب مرحوم بھی برسوں سے اسی چراغ کو روشن رکھنے میں مصروف تھے؛ لیکن افسوس کہ ان کی طویل خدمات، اخلاص اور دینی وابستگی انہیں وہ تعارف نہ دے سکی جو بیماری نے چند ہی دنوں میں دے دیا؛ ملک بھر کے لوگ ان کے نام اور حالات سے اس وقت واقف ہوئے جب علاج کے لیے چندے کی اپیلیں گردش کرنے لگیں؛ کتنی بے رحم دنیا ہے کہ ایک شخص کی شناخت اس کی خدمات، کردار اور قربانیوں سے نہیں بلکہ اس کی مجبوری، لاچاری، بے بسی اور بیماری سے قائم ہوتی ہے؛ اور یہ کتنا کرب ناک منظر ہے کہ دین کے خدمت گار جو عمر بھر دوسروں کے لیے روشنی بانٹتے رہے، اپنی ضرورت کے وقت اس حال کو پہنچ جائیں کہ ان کا تعارف بھی ان کی خدمات کے بجائے ان کی محتاجی کا عنوان بن جائے۔

یہ کوئی ایک فرد یا ایک ادارے کا مسئلہ نہیں بلکہ مختلف شکلوں میں ملک بھر کے ہزاروں دینی خدمت گار اسی طرح کی معاشی مشکلات سے دوچار ہیں؛ اگر ان کی مجموعی صورتِ حال پر نظر ڈالی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس کرب، تنگ دستی اور معاشی بے یقینی کے عالم میں زندگی بسر کر رہے ہیں؛ ایک طرف تنخواہیں اس قدر محدود ہوتی ہیں کہ ان سے ماہانہ گھریلو اخراجات پورے کرنا بھی دشوار ہو جاتا ہے؛ دوسری طرف پیش آنے والے ہنگامی حالات جیسے بیماری، شادی بیاہ، بچوں کی تعلیم یا مکان کی تعمیر جیسے کثیر صرفہ کے مواقع کے لیے بھی اکثر اداروں میں امدادی فنڈ کا نہ کوئی منظم نظام موجود ہے اور نہ تعاون کا ایسا مزاج پروان چڑھ سکا ہے جو اساتذہ کے بوجھ کو ہلکا کر سکے الا ما شاء اللہ؛ حقیقت یہ ہے کہ دینی تعلیم کے فروغ اور نئی نسل کی دینی و اخلاقی تربیت کا عظیم فریضہ انجام دینے والے اساتذہ کی معاشی حالت ہمارے اجتماعی رویوں اور ترجیحات پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

اساتذۂ مدارس کے تعلق سے ہماری یہی مایوس کن اور غیر حقیقت پسندانہ روش ایک بڑے المیے کو جنم دے رہی ہے کہ فضلاءِ مدارس میں جنہیں بھی بہتر معاش یا معاشی استحکام کے مواقع میسر آتے ہیں، وہ تدریس کے میدان سے کنارہ کش ہو کر دوسری راہیں اختیار کر لیتے ہیں؛ اور جو لوگ درس و تدریس سے جڑے ہوئے ہیں، ان کی بھی ایک بڑی تعداد بہتر مواقع کی تلاش میں مسلسل کوشاں رہتی ہے اور کامیاب نہ ہونے کی صورت میں لگے رہتے ہیں لیکن ان کے دل و دماغ کا ایک بڑا حصہ مستقبل کی فکریں سلجھانے اور معاشی استحکام کی جستجو میں مصروف رہتا ہے۔

رہی بات صبر، توکل، قناعت اور دینی خدمات کے جذبے کی تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ وہ عظیم اوصاف ہیں جنہیں ہر مسلمان کو اختیار کرنا چاہیے؛ خصوصاً دینی خدمت انجام دینے والوں کے لیے یہ صفات زادِ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اسلام کا مزاج صرف صبر و توکل اختیار کرنے کا نہیں بلکہ ان کے ساتھ بہتر سے بہتر جائز اسباب اختیار کرنے، معاشی استحکام حاصل کرنے اور ظاہری حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کرنے کا بھی ہے۔

اسلام نے نہ تو فقر و تنگ دستی کو مقصود بالذات قرار دیا ہے اور نہ ہی اسباب سے بے رغبتی کو فضیلت کا معیار بنایا ہے؛ انبیائے کرام علیہم السلام، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور اکابر امت کی زندگیاں اس حقیقت کی شاہد ہیں کہ انہوں نے توکل کے ساتھ تدبیر، قناعت کے ساتھ محنت اور رضا بالقضا کے ساتھ بہتر مواقع کی جستجو بھی کی؛ اس لیے اگر کوئی شخص اپنی معاشی حالت بہتر بنانے، اپنے اہل و عیال کے لیے آسودگی فراہم کرنے اور مستقبل کو زیادہ محفوظ بنانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ دینی مزاج کے خلاف نہیں بلکہ عین اس کے مطابق ہے۔

ایک زمانہ تھا جب شکایت کی جاتی تھی کہ خوش حال اور صاحبِ حیثیت لوگ اپنے بچوں کو مدارس میں نہیں بھیجتے لیکن آج صورتِ حال اس سے کہیں زیادہ تشویش ناک ہو چکی ہے؛ اب تو معاشی اعتبار سے کمزور طبقہ بھی اپنے بچوں کو مدارس کے حوالے کرنے میں تردد محسوس کرتا ہے؛ تنگ دست لوگوں کو بھی ایک طرف رکھیے! اب تو خود مدارس کے اساتذہ کی ایک بڑی تعداد اپنے بچوں کو انہی مدارس میں داخل کرانے سے گریزاں نظر آتی ہے؛ اس کی وجہ محض ذہنی تبدیلی یا ماحول کا دباؤ نہیں بلکہ وہ تلخ تجربات ہیں جنہیں وہ روز اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں؛ جب ایک استاد اپنی پوری زندگی تدریس اور دینی خدمت میں گزارنے کے باوجود معاشی عدمِ استحکام، مالی پریشانیوں اور غیر یقینی مستقبل کا شکار دیکھتا ہے تو فطری طور پر وہ اپنے بچوں کے لیے ایک ایسی راہ تلاش کرنا چاہتا ہے جس میں دینی وابستگی کے ساتھ معاشی تحفظ بھی میسر ہو۔

شاید یہی وجہ ہے کہ آج ایسے تعلیمی ادارے تیزی سے فروغ پا رہے ہیں جن میں دینی اور عصری تعلیم کو یکجا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ طلبہ ایک طرف دینی شعور اور مذہبی شناخت سے وابستہ رہیں اور دوسری طرف مستقبل میں بہتر معاشی مواقع کے حصول کے لیے ضروری اسناد اور صلاحیتیں بھی حاصل کر سکیں؛ قابلِ غور بات یہ ہے کہ ان اداروں میں محدود وسائل رکھنے والے والدین بھی بڑی بڑی فیسیں ادا کرکے اپنے بچوں کو داخل کرا رہے ہیں جبکہ وہی والدین اپنے بچوں کو روایتی مدارس میں، جہاں تعلیم و رہائش اکثر مفت ہوتی ہے، بھیجنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔

یاد رکھیں کہ کوئی بھی نظام صرف نظریات اور جذبات کے سہارے طویل عرصے تک قائم نہیں رہتا، اس کے استحکام کے لیے ایسے نتائج بھی دکھائی دینے چاہییں جو لوگوں کے اعتماد کو مضبوط کریں؛ جب معاشرہ یہ دیکھے گا کہ دینی تعلیم حاصل کرنے والا نوجوان علمی و اخلاقی اعتبار سے بھی ممتاز ہے اور معاشی اعتبار سے بھی باوقار زندگی گزار سکتا ہے، تبھی مدارس کی طرف رجحان دوبارہ زور پکڑ سکے گا؛ ورنہ اندیشہ یہی ہے کہ مدارس اور معاشرے کے درمیان یہ فاصلہ وقت کے ساتھ ساتھ مزید بڑھتا چلا جائے گا۔

اس لیے آج ضرورت صرف مدارس کے تحفظ کی نہیں بلکہ ان لوگوں کے تحفظ کی بھی ہے جو اپنی زندگیاں مدارس کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں؛ عمارتیں، نصاب اور ادارے اپنی جگہ اہم ہیں مگر کسی بھی تعلیمی نظام کی اصل روح اس کے اساتذہ ہوتے ہیں؛ اگر وہ معاشی اضطراب، مالی بے یقینی اور مستقبل کے خوف میں مبتلا رہیں گے تو اداروں کی ظاہری مضبوطی بھی زیادہ دیر کارآمد ثابت نہیں ہو سکے گی؛ وقت کا تقاضا ہے کہ اساتذۂ مدارس کے لیے باعزت مشاہرات، علاج و معالجے کی مستقل سہولت، ہنگامی امدادی فنڈ، پنشن اور سماجی تحفظ کے مؤثر نظام پر سنجیدگی سے غور کیا جائے؛ محض صبر، قناعت اور ایثار کے نام پر ایک طبقے کو مسلسل آزمائشوں کے حوالے کر دینا نہ انصاف ہے اور نہ ہی دینی مزاج کے مطابق؛ اگر ہم واقعی مدارس کو مضبوط اور مؤثر دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ مدارس کی بقا ان کے اساتذہ کے وقار، اطمینان اور معاشی استحکام سے وابستہ ہے۔

 

https://alamir.in/hazrat-moulana-samir-uddin-sb-se-mulaqaat-w-taassuraat/

Translate »