بپارڈ میں گزرے پہلے ہفتہ کی کہانی پہاڑوں کی زبانی

بپارڈ میں گزرے پہلے ہفتہ کی کہانی پہاڑوں کی زبانی
بپارڈ میں گزرے پہلے ہفتہ کی کہانی پہاڑوں کی زبانی

بپارڈ میں گزرے پہلے ہفتہ کی کہانی پہاڑوں کی زبانی

امیر معاویہ قاسمی دربھنگوی

شام کا سہانا وقت ہے، فضا خوشگوار اور دلکش ہے؛ ہم چند احباب بپارڈ کے احاطے میں واقع کینٹین میں بیٹھے چائے کی چسکیوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اور دل کے غبار ہواؤں کے سپرد کر رہے ہیں۔

کینٹین کے سامنے ایک وسیع و عریض سڑک پھیلی ہوئی ہے اور اس کے عین مقابل پہاڑوں کا ایک طویل سلسلہ ہے، جس کی بلند چوٹی کا سحرانگیز منظر دل میں ایک عجب سی طمانیت گھول رہا ہے، یوں لگتا ہے جیسے اس خاموشی میں کوئی نادیدہ کشش ہے جو اپنے اندر سمیٹ لینے کو بےتاب ہے۔

کافی دیر تک اسی کیفیت میں ڈوبا رہا اور جب اس کیفیت سے باہر نکلا تو ذہن میں یکایک ایک سوال ابھرا کہ آخر بپارڈ کو اسی پہاڑ کے دامن میں کیوں بسایا گیا؟

چند لمحوں کی خاموشی کے بعد یوں محسوس ہوا جیسے پہاڑ کی بلند چوٹی خود لب کشا ہو گئی ہو کہ پہاڑ محض سنگ و خشت کا انبار نہیں بلکہ عزمِ راسخ، استقلالِ پیہم اور صبرِ لازوال کا ایک جیتا جاگتا استعارہ ہے؛ شاید اسی رمز کے پیشِ نظر اس ادارے کی بنیاد یہاں رکھی گئی ہو تاکہ یہاں آنے والے افراد اس کے سائے میں رہ کر انہی اوصاف کو اپنے اندر جذب کر لیں۔

یوں یہاں قدم رکھنے والے ہر فرد کو پہاڑ کی بلندی ایک خاموش پیغام دیتی ہے کہ وہ بھی پہاڑ کی مانند ثابت قدم ہو جائے، حوادثِ زمانہ کے سامنے سرنگوں ہونے کے بجائے سینہ سپر رہے، زندگی کی تپش کو ضبط و تحمل سے جھیلے اور منزل کی راہ میں حائل ہر رکاوٹ کو عزم و ہمت کے ساتھ عبور کرنے کا حوصلہ رکھے۔

قریب ہم دو سو معاون اردو مترجمین کو بھی پانچویں قافلے کی صورت میں اس وادیٔ تربیت میں دو ماہ کے لیے مدعو کیا گیا ہے، ہمیں یہاں آئے ہوئے آج سات دن بیت چکے ہیں اور اس طرح ایک ہفتہ کسی طرح پورا ہو گیا ہے؛ یہ سات دن یہاں کی فضا سے مانوس ہونے، یہاں کی ہواؤں میں سانس لینے کے قرینے سیکھنے اور اپنی انا کو نظم و ضبط کے سانچے میں ڈھالنے میں صرف ہو گئے۔

مگر ابھی سفر باقی ہے اور راستہ طویل، آنے والے دن اس پہاڑ کے اور کتنے اسرار ہم پر آشکار کریں گے اور ہم یہاں سے کس نوع کی کہانیاں اور تجربات اپنے دامن میں سمیٹ کر لوٹیں گے؟ یہ سب ابھی پردۂ مستقبل میں پنہاں ہے؛ البتہ اتنا یقین ضرور ہے کہ واپسی کے وقت ہمارے اندر کا انسان پہلے جیسا نہیں رہے گا، وہ کچھ اور بلند، کچھ اور پختہ اور شاید کچھ اور خاموش ہو چکا ہوگا بالکل اس پہاڑ کی طرح جو صدیوں سے ایستادہ ہے مگر اپنے اندر ایک پوری داستان سموئے ہوئے ہے۔

:تک بندی کے ساتھ گفتگو کو لگام دیتا ہوں

*پہاڑوں سے اونچی ہے ہستی ہماری*
*ہم ہیں بہاری ہماری داستان ہے پیاری*
*خاموش پہاڑ ہے گواہ ہمارے عزم کا*
*یہاں کا ہر ذرہ ہے نشان ہمارے علم کا*

 

Translate »